ہبلی :6/ نومبر (ایس اؤنیوز) شہر کے نہرو میدان میں 5نومبر بروز اتوار کو آزاد لنگایت دھرم کی مانگ لے کر عظیم الشان اجلاس منعقد کیا گیا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ’’بسوا بھگتی ، قومی بھگتی ‘‘ کے نعرے سے ساری فضا گونج اٹھی۔ لنگایت کو آزاد مذہب قرار دینے کے لئے مہاراشٹرا، کیرالہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو سمیت کرناٹک کے مختلف مقامات سے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ لوگوں نے اپنے سروں پر ’’میں لنگایت ‘‘ کی ٹوپیاں پہن رکھیں تھیں اور سفیدلباس میں بسوا پرچم بھی تھام رکھا تھا ۔
موظف آئی اے ایس آفیسر اور جدوجہد کے روح ِ رواں ایس ایم جامدار نے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مہا سبھا کے لوگوں کو عوام کے سامنے سچ بولنا چاہئے۔ آگے کہا کہ جس طرح انہوں نے سپریم کورٹ میں بسویشور کو لنگایت دھرم کا بانی مان کر گواہی دی تھی ، عوام کے سامنے بھی مہاسبھا کے لوگوں کو سچ بولنا چاہئے۔
رکن اسمبلی بی آر پاٹل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک نظریاتی جدوجہد ہے ، ہندو دھرم میں انسا ن کو انسان کی حیثیت سے دیکھا نہیں جاتا، اس معاملے میں ہر کوئی خاموش ہے انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہندو دھرم اعلیٰ ہوتاتو گوتم بدھ، مہاویر، گرونانک اور بسویشور کیوں کر دھرم سے الگ ہوئے ؟ ان کے مطابق محنت کش لوگوں کو ہندو دھرم نے بہت گری ہوئی آنکھوں سےدیکھا ہے،مرکز کے 72وزراء میں 42وزارت کے قلم دان برہمنوں کے پاس ہیں۔ ریاست کے 9لنگایت ایم پی ہیں ان میں سے ایک کو بھی وزیر نہیں بنایاگیا ہے۔
لنگایت دھرم ویدیکے کے صدر بسوراج ہورٹی نے علاحیدہ لنگایت پریشد تشکیل دینے کے امکانا ت کا اعلان کیا اور ان لیڈران اور سوامی کو متنبہ کیاکہ عوام آپ پر اعتماد کرتے ہیں انہیں دھوکہ نہ دیں۔
کوڈل سنگم بسوادھرم پیٹھ کی صدر محترمہ ماتے مہادیوی نے کہاکہ بی جے پی لیڈران بی ایس یڈیورپااور جگدیش شٹر پیدائشی لنگایت ہیں اوران کی موت کے بعد ان کی آخری رسومات بھی لنگایت دھرم کےمطابق ہی انجام دی جائیں گی، انہوں نے برہمی کا اظہار کیا کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اُنہیں دھرم نہیں چاہئے۔ انہوں نے تمام لنگایتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ وہ لازماً بسویشور کے وچناس کا مطالعہ کریں، اس پر عمل کریں توہی حقیقی لنگایت کہلائیں گے۔آگے بتایا کہ لنگایتوں کو مندروں کے چکر کاٹنا چھوڑدینا چاہئے اور ایک خدا کی عبادت کرنی چاہئے۔
جدوجہد کے اہم لیڈر ایم بی پاٹل نے بھی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کے ایل ای تعلیمی دارے کے ذمہ دار پربھا کر پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ کورے کھائے ہوئے برتن میں چھید ڈال رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کے ایل ای کا ادارہ لنگایتوں کا ہے ، اگر وہاں لنگایتوں کو ترجیح نہیں دی گئی تو انہیں ادارے سے بھگادیا جائے گا۔ ایم بی پاٹل نے بتایا کہ پچھلے 900سالوں سے ہمارا استحصال کیا جارہاہے، ان کے مطابق بسویشور کی طرف سے قائم کردہ لنگایت دھرم میں ذات پات کی تفریق ، چھوت چھات اورنسل کا بھیدبھائو نہیں ہے ۔ ویرشیوا کے نام پر کچھ سوامی جی بسویشور کو چھوڑ کر ویدیک پرمپرا پر عمل پیرا ہیں، اگر ہمیں آزاد دھرم کے طورپر تسلیم کیاجاتاہے تو کسی کو تکلیف نہیں ہوگی ، انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہندو دھرم کے مخالف نہیں ہیں ۔

سولپھل مٹھ کے شیویوگی سوامی جی نے بیان دیتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں نے مہاتما گاندھی کاقتل کیا ہے انہی لوگوں نے ایم ایم کلبرگی کا بھی قتل کیاہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم بی پاٹل اور ونئے کلکرنی آئندہ دنوں میں سیاسی افق پر چمکیں گے اور ان دونوں میں وزیرا علیٰ بننے کی صلاحیت ہے۔
اجلاس میں شریک لاکھوں عوام کے لئے شہر کے 4مختلف مقامات نولگند روڈ، امرگول زرعی مارکیٹ، گبورکراس اور کاروارروڈ پر کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔اجلاس میں شرکت کرنے والے بسوا دھرم کے مقلدوں کو شہر کے مسلمانوں نے بھی خاصا تعاون کیا۔ مسلمانوں نے عوام کے درمیان چھانچھ، پانی ، موز وغیرہ مفت میں تقسیم کئے ۔ کرناٹکا مسلم رائٹس فاؤنڈیشن ، بام سیف وغیرہ کی طرف سے عوام میں پانی وغیرہ بھی تقسیم کئے گئے۔
ااجلاس میں لاکھوں لوگوں کی شرکت کی وجہ سے شہر کے کئی مقامات پر ٹرافک کے لئے دشواریاں پیدا ہوئیں۔
کئی ایک سوامی اور کئی ایک لیڈران اس موقع پر ڈائس پر موجود تھے اور کئی ایک نے اس موقع پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔